کیا لینا دینا تجھ کو مِرے التفات سے
جب اتفاق ہی نہیں ہے میری بات سے
اتنا تو جانتا ہی ہے ناں، تُو نہیں الگ
اس روح سے نہ فکر کی اس کائنات سے
اب دن کی کیا کہوں کہ اگر تُو نہیں دِکھے
اپنے تمام دن ہمیں لگتے ہیں رات سے
میں معذرت طلب ہوں اگر شعر ہیں گِراں
تُو بخش دے خفا ہے اگر میری بات سے
مجھ کو فنا کا درس بقا کے لیے مِلا
یعنی بقا کی ڈور جُڑی ہے ممات سے
صائمہ یوسفزئی
No comments:
Post a Comment