Saturday, 12 June 2021

تخیل کا در کھولے ہوئے شام کھڑی ہے

 تخیل کا در کھولے ہوئے شام کھڑی ہے

گویا کوئی تصویر خیالوں میں جڑی ہے

ہر منظر ادراک میں پھر جان پڑی ہے

احساس فراواں ہے کہ ساون کی جھڑی ہے

سایہ ہو شجر کا تو کہیں بیٹھ کے دم لیں

منزل تو بہت دور ہے اور دھوپ کڑی ہے

سینے پہ مِرے وقت کا یہ کوہ گراں ہے

نیزے کی انی یا کہ کلیجے میں گڑی ہے

وہ میری ہی گم گشتہ حقیقت تو نہیں ہے

رستے میں کئی روز سے شے کوئی پڑی ہے

ہر لحظہ پروتی ہوں بکھر جاتے ہیں ہر بار

لمحات گریزاں ہیں کہ موتی کی لڑی ہے

ہم اور خدا کا بھی یہ احسان اٹھاتے

انسان ہیں کچھ ایسی ہی بات آن پڑی ہے


زاہدہ زیدی

No comments:

Post a Comment