Saturday, 12 June 2021

جہان جسم میں بھی حلقۂ جگر میں رہوں

 جہانِ جسم میں بھی حلقۂ جگر میں رہوں 

جہاں جہاں میں رہوں شہر میں خبر میں رہوں 

میں بولتا ہی رہوں گا سخن کی خوشبو میں 

صریرِ خامۂ تہذیب کے ہنر میں رہوں 

چراغِ زیست جلاتا رہوں گا طوفاں میں 

دیارِ رقصِ ہوا کے شرر شرر میں رہوں 

سکوتِ ہجر سے بہتر ہے وصل کا غوغا 

سفر سفر میں رہوں اور نظر نظر میں رہوں 

نئے چراغ جلاؤں نئے دماغوں میں 

ہمیشہ تخم کی مانند ثمر ثمر میں رہوں 

یہ آرزو میری پیتی رہی لہو میرا 

حصارِ منزلِ عشرت میں بھی سفر میں رہوں 

سکوت بھی ہے سمندر میں اور سکون بھی ہے 

پلک پلک پہ ٹھہر جاؤں چشمِ تر میں رہوں 


عادل اشرف

No comments:

Post a Comment