Saturday, 12 June 2021

پھر تخیل یوں کس کا مجھ کو بہلانے لگا

 پھر تخیل یوں کس کا مجھ کو بہلانے لگا

قرب جیسے دوریوں کا روپ اپنانے لگا

اس کے چہرے کی ضیا پاشی کو شب میں دیکھ کر

چاندنی تو چاندنی ہے چاند شرمانے لگا

جان کر توڑا کسی نے جب کھلونا پیار کا

دل کوئی ٹوٹے کھلونے ہی سے بہلانے لگا

اہل محفل کی نظر میں جیسے اک مجرم تھی میں

اٹھ کے جب وہ شوخ پہلو سے مرے جانے لگا

بارہا ترک تعلق کے لیے سوچا، مگر

بڑھ کے آگے دل مِرا مجھ کو ہی سمجھانے لگا

ٹھوکریں کھا کر ہوا مایوس جب وہ غیر سے

زلف میری ہاتھ میں لے کر وہ سلجھانے لگا

دل جلوں کی صف میں اے نسرین تُو بھی آ گئی

اب تِرے رنگ تغزل میں مزہ آنے لگا


نسرین نقاش

No comments:

Post a Comment