پھر تخیل یوں کس کا مجھ کو بہلانے لگا
قرب جیسے دوریوں کا روپ اپنانے لگا
اس کے چہرے کی ضیا پاشی کو شب میں دیکھ کر
چاندنی تو چاندنی ہے چاند شرمانے لگا
جان کر توڑا کسی نے جب کھلونا پیار کا
دل کوئی ٹوٹے کھلونے ہی سے بہلانے لگا
اہل محفل کی نظر میں جیسے اک مجرم تھی میں
اٹھ کے جب وہ شوخ پہلو سے مرے جانے لگا
بارہا ترک تعلق کے لیے سوچا، مگر
بڑھ کے آگے دل مِرا مجھ کو ہی سمجھانے لگا
ٹھوکریں کھا کر ہوا مایوس جب وہ غیر سے
زلف میری ہاتھ میں لے کر وہ سلجھانے لگا
دل جلوں کی صف میں اے نسرین تُو بھی آ گئی
اب تِرے رنگ تغزل میں مزہ آنے لگا
نسرین نقاش
No comments:
Post a Comment