پت جھڑ میں موجِ تند نہ بکھرا گئی مجھے
کچھ دھوپ ہی بہار کی جھلسا گئی مجھے
حیرت نہیں کہ چاک قبائیں عدو نے کیں
سازش کسی عزیز کی چونکا گئی مجھے
الزام میں نصیب کو دیتا رہا عبث
اپنی نظر ہی آپ یہاں کھا گئی مجھے
دو پل ملی نجات غموں کے حصار سے
صورت کوئی خیال میں بہلا گئی مجھے
احسان زندگی پہ کیے لاکھ بدلے میں
زنجیر اک قصور پہ پہنا گئی مجھے
آئی نہیں پلٹ کے بہاریں کبھی مگر
اک عمر انتظار میں تڑپا گئی مجھے
عارف وکیل کس لیے ہے التماس کیا
مجرم میری ذات ہی ٹھہرا گئی مجھے
جاوید عارف
No comments:
Post a Comment