خواب آنکھوں میں سجانے سے بہت ڈرتا ہوں
یار نجمی میں زمانے سے بہت ڈرتا ہوں
دوستی، عہد، وفا، پیار، محبت، نفرت
رسمِ دنیا کو نبھانے سے بہت ڈرتا ہوں
پھر نیا عہدِ جگر باندھنا نا ممکن ہے
میں کسی دوست پرانے سے بہت ڈرتا ہوں
دکھ ملا، درد ملا، درد بھی بے دارو مرض
دل کجا ہاتھ ملانے سے بہت ڈرتا ہوں
وحشتیں مجھ کو اندھیروں سے بہت ہیں لیکن
میں نئی شمع جلانے سے بہت ڈرتا ہوں
فرد ہوں میں بھی چراغوں کے قبیلے کا کوئی
میں ہواؤں کے گھرانے سے بہت ڈرتا ہوں
ہائے تنگ دست محبت کی یہ نامردی توبہ
میں تمہیں اپنا بنانے سے بہت ڈرتا ہوں
نجم الحسن نجمی
No comments:
Post a Comment