کر تُو یہ آخری احسان، مجھے جانے دے
ہے قسم تجھ کو مِری جان مجھے جانے دے
میں جدا ہونے کو سمجھی تھی مقدر اپنا
تُو بھی اب اس کو یہی مان مجھے جانے دے
در کُھلا چھوڑ کے آئی ہوں میں تجھ سے ملنے
تُو مِرے خوف کو پہچان، مجھے جانے دے
آج موسم کے بھی تیور ہیں محبت والے
کر نہ دے غم سے یہ ہلکان مجھے جانے دے
جل نہ جائے کہیں اس ہجر میں یہ دل کا چمن
تیری یادیں ہوئیں شمشان مجھے جانے دے
تُو زمیں کھینچ یا چاہے یہ فلک بھی لے لے
میں گھڑی بھر کی ہوں مہمان مجھے جانے دے
وقت کے جبر کی دہلیز پہ آ بیٹھی ہوں
اے مِرے درد کے درمان مجھے جانے دے
ہما شاہ
No comments:
Post a Comment