Thursday, 17 June 2021

سمجھ رہا تھا میں یہ دن گزرنے والا نہیں

 سمجھ رہا تھا میں یہ دن گزرنے والا نہیں

کھلا کہ کوئی بھی لمحہ ٹھہرنے والا نہیں

کوئی بھی رستہ کسی سمت کو نہیں جاتا

کوئی سفر مِری تکمیل کرنے والا نہیں

ہوا کی ابر کی کوشش تو پوری پوری ہے

مگر دھویں کی طرح میں بکھرنے والا نہیں

میں اپنے آپ کو بس ایک بار دیکھوں گا

پھر اس کے بعد کسی سے بھی ڈرنے والا نہیں

چراغ جاں لیے کس دشت میں کھڑا ہوں میں

کوئی بھی قافلہ یاں سے گزرنے والا نہیں

میں کیا کروں کوئی تصویر گر ادھوری ہے

میں اپنے رنگ تو اب اس میں بھرنے والا نہیں


فہیم شناس کاظمی

No comments:

Post a Comment