ایک تکلیف پسِ قلب و جگر ہوتی ہے
اکثر اس طرح سے بھی رات بسر ہوتی ہے
ناصحا کچھ تو کمی ہو گی تِری بات میں بھی
اس لیے تیری نصیحت بے اثر ہوتی ہے
دے تو سکتا ہوں جواباً میں تجھے بھی گالی
میرے کردار کی توہین مگر ہوتی ہے
سلسلہ ہے یہ محبت بھی مکافات ہی کا
جو اِدھر ہوتی ہے حالت وہ اُدھر ہوتی ہے
آتے ہیں کتنے ہی دشوار مراحل حمزہ
طے جو کی جائے تو طے راہگزر ہوتی ہے
امیر حمزہ سلفی
No comments:
Post a Comment