بے دھیان مسافتوں کے ہمسفر کے لیے ایک نظم
کبھی کبھی ایسا بھی ہوا ہے
میری آنکھ میں تیرنے والا
آنسو پہلے
اس کی آنکھ سے ٹپک گیا ہے
جو کچھ میں نے
اُس سے کہنا چاہا ہے
گویائی سے پہلے اُس کی سماعت تک پہنچا ہے
یہ دنیا اظہار کی دنیا ہے
جس میں ہر کوئی اپنے
جذبوں اور لفظوں کو ظاہر کر دے تو پہچانا جائے
گو ہم دونوں نے لفظوں کے کاندھے پر
کم سر رکھا ہے
لیکن بے دھیانی میں چلتے چلتے
دونوں
کتنا آگے نکل گئے ہیں
حمیرا رحمان
No comments:
Post a Comment