Friday, 18 June 2021

کبھی کبھی ایسا بھی ہوا ہے

 بے دھیان مسافتوں کے ہمسفر کے لیے ایک نظم 


کبھی کبھی ایسا بھی ہوا ہے

میری آنکھ میں تیرنے والا

آنسو پہلے

اس کی آنکھ سے ٹپک گیا ہے

جو کچھ میں نے

اُس سے کہنا چاہا ہے

گویائی سے پہلے اُس کی سماعت تک پہنچا ہے

یہ دنیا اظہار کی دنیا ہے

جس میں ہر کوئی اپنے

جذبوں اور لفظوں کو ظاہر کر دے تو پہچانا جائے

گو ہم دونوں نے لفظوں کے کاندھے پر

کم سر رکھا ہے

لیکن بے دھیانی میں چلتے چلتے

دونوں

کتنا آگے نکل گئے ہیں


حمیرا رحمان

No comments:

Post a Comment