الفت کا درد غم کا پرستار کون ہے
دنیا میں آنسوؤں کا طلبگار کون ہے
خوشیاں چلا ہوں بانٹنے آنسو سمیٹ کر
الجھن ہے میرے سامنے حقدار کون ہے
ضد پر اَڑے ہوئے ہیں یہ دل بھی دماغ بھی
اب دیکھنا ہے ان میں اثر دار کون ہے؟
پہلے تلاش کیجئے منزل کی رہگزر
پھر سوچیۓ کہ راہ میں دیوار کون ہے
کانوں کو چھُو کے گزری ہے کوئی صدا ابھی
یہ کون آہ بھرتا ہے، بیمار کون ہے؟
اِس پار میں ہوں اور یہ ٹوٹی ہوئی سی ناؤ
آواز دے رہا ہے جو اُس پار کون ہے؟
گووند گلشن
No comments:
Post a Comment