Friday, 18 June 2021

ہے جو دیوار پر گھڑی تنہا

 ہے جو دیوار پر گھڑی تنہا

دیکھتی ہوں پڑی پڑی تنہا

چاند میں عکس ڈھونڈھتی ہوں تِرا

روز آنگن میں، میں کھڑی تنہا

سوچتی ہوں کی جلد دن نکلے

رات اتنی لگے بڑی تنہا

یاد کرتی ہوں اپنے ماضی کو

حال کی قبر میں پڑی تنہا

سارے اپنوں کی بھیڑ میں رہ کر

اپنے حالات سے لڑی تنہا


سیا سچدیو

No comments:

Post a Comment