بھلی ہو یا کہ بری ہر نظر سمجھتا ہے
ہر ایک شخص کی آہٹ کو گھر سمجھتا ہے
ہر ایک در کو وہ اپنا ہی در سمجھتا ہے
مگر زمانہ اسے در بہ در سمجھتا ہے
پھل اور شاخ سمجھنے میں چُوک جائیں مگر
ہے کس جگہ کا پرندہ شجر سمجھتا ہے
کچھ اس طرح سے دکھاتا ہے وہ ہنر اپنا
کہ جیسے سب کو یہاں بے ہنر سمجھتا ہے
اتل اجنبی
No comments:
Post a Comment