بدن پہ بوجھ بنی جا رہی ہیں سانسیں بھی
سلگتی رہتی ہیں اشکِ رواں سے آنکھیں بھی
یہی نہیں کہ مِرے ہونٹ سی دئیے اُس نے
اُٹھی ہوئی ہیں مِرے چار سُو سلاخیں بھی
اُلٹ پلٹ کے انہیں دیکھنے ہی آ جاؤ
تمہارا پوچھتی رہتی ہیں یہ کتابیں بھی
نظر کا زاویہ تبدیل ہونا ممکن ہے
مگر یہ کیا کہ بدل دی ہیں اُس نے باتیں بھی
اُکھڑ رہے ہیں قدم یوں بساطِ ہستی پر
نکل گئی ہیں مِرے ہاتھ سے طنابیں بھی
بلا کا صائمہ طوفان رات آیا تھا
تھکی تھکی سی ہیں شاخوں کی شوخ بانہیں بھی
صائمہ کامران
No comments:
Post a Comment