Saturday, 19 June 2021

زرد پتوں کے تصور سے ڈری رہتی ہے

زرد پتوں کے تصور سے ڈری رہتی ہے

دل کے گُلشن میں کوئی سبز پری رہتی ہے

موسم درد میں ہر پیڑ بکھر جاتا ہے

ایک اُمید کی وہ شاخ ہری رہتی ہے

وقت کی دُھوپ تپش لاکھ اُگا لے دل پر

ایک گوشے میں مگر تھوڑی تَری رہتی ہے

دل وہ پتھر ہے جو ہر موج سہا کرتا ہے

غم وہ ندی ہے جو ہر وقت بھری رہتی ہے

فکرِ محبوب،۔ غمِ دنیا،۔ خیالِ مسجود

بے خودی ایسے مسائل سے بری رہتی ہے

ٹُوٹتا رہتا ہے کمرے میں اندھیرا شاہد

دُھوپ دیوار کے اُس پار دھری رہتی ہے


شاہد جمیل

No comments:

Post a Comment