Saturday, 19 June 2021

اسی خیال سے دل کی رفو گری نہیں کی

 اسی خیال سے دل کی رفو گری نہیں کی

وہ جس نے زخم دیا اس نے مریمی نہیں کی

تِرا وجود سراسر ہے ملتفت تو پھر

تِرے گریز نے کیوں اب تلک کمی نہیں کی

ہوا پڑا ہے یوں ہی کلبۂ نظر تاریک

کہ آج اس کے سراپا نے روشنی نہیں کی

کہانیوں میں ہی ملتے ہیں کچھ نشاں میرے

گزار دی ہے جو میں نے وہ زندگی نہیں کی


کاشف رضا

No comments:

Post a Comment