ہم نے چاہا اُسے اُسی کے بغیر
کاٹ دی عمر زندگی کے بغیر
ایسے بھی کچھ چراغ ہوتے ہیں
جلتے رہتے ہیں روشنی کے بغیر
ہو گئے پار ہم تصور میں
ناؤ چلتی رہی ندی کے بغیر
ضبط کیا ہے یہ پوچھیے ہم سے
مسکرائے ہیں ہم خوشی کے بغیر
گُھٹ کے رہ جائے گا اکیلے میں
آدمی کیا ہیں آدمی کے بغیر
سیا سچدیو
No comments:
Post a Comment