تُو میرا دوست ہے کہ آشنا مِرے دشمن
ذرا قریب سے چہرہ دِکھا مرے دشمن
بھُلا نہ دوں میں رواداریاں کہیں اپنی
اُٹھا یہ تیغ و سِپر اور جا مرے دشمن
سُنا ہے ایک زمانے سے تُو بھی تنہا ہے
کچھ اپنا حال مجھے ہی سُنا مرے دشمن
مِرے لبوں سے تو حرفِ دُعا ہی نکلے گا
تُو اپنے سارے ہُنر آزما مرے دشمن
وہی پرانی شکایت، وہی پرانے گِلے
نکال اور نیا سلسلہ مرے دشمن
تمہارے اور مِرے خال و خد نہ ملنے لگیں
نہ اس قدر بھی گھٹا فاصلہ مرے دشمن
دُکھوں نے صائمہ شاعر بنا دیا مجھ کو
کچھ اور ڈھونڈتا میری سزا مرے دشمن
صائمہ کامران
No comments:
Post a Comment