Saturday, 19 June 2021

سر پر ہمارے سایۂ دیوار بھی نہیں

 سر پر ہمارے سایۂ دیوار بھی نہیں

سورج سا ہم فقیروں کا گھر بار بھی نہیں

مجھ سے تعلقات کا اقرار بھی نہیں

اور کوئی پوچھتا ہے تو انکار بھی نہیں

گہرائی اس ندی کی بھلا کیا پتا لگے

جس میں بھنور نہیں کوئی منجھدار بھی نہیں

جس کو تمام عمر عمل میں نہ لا سکے

ایسی وہ رائے دینے کا حقدار بھی نہیں

سانسوں کی ڈور تھامے چلی جا رہی ہے عمر

ورنہ کسی سے کوئی سروکار بھی نہیں


اتل اجنبی

No comments:

Post a Comment