Saturday, 19 June 2021

تیرے پہلو میں برف کا ٹکڑا

 سرخ پھندے سنہری مالائیں

تیرے پہلو میں برف کا ٹکڑا

جانے پگھلے گا کون سی رُت میں

اب تو پیراہنِ ہمالہ بھی

مثلِ دامن نمائے قیس ہوا

بال کھلنے لگے ہیں شیشم کے

بدھ کی صورت جمود کی رُت میں

بے نیازِ لباسِ تخمینہ

تھے گیانی جو وہ سفیدے بھی

ہیں سرِ راہ محوِ بوس و کنار

اپنی خوش قامتی پہ اِتراتی

پہننے والی ہیں کھجوریں بھی

سرخ پھندے، سنہری مالائیں


تنویر مونس

No comments:

Post a Comment