ہم جبرِِ محبت سے گریزاں نہیں ہوتے
زلفوں کی طرح تیری پریشاں نہیں ہوتے
اے عشق تیری راہ میں ہم چل تو رہے ہیں
کچھ مرحلے ایسے ہیں جو آساں نہیں ہوتے
داناؤں کے بھی ہوش اڑے راہِ طلب میں
ناداں جنہیں کہتے ہو وہ ناداں نہیں ہوتے
جلووں کے تِرے ہم جو تماشائی رہے ہیں
سو جلوے ہوں نظروں میں تو حیراں نہیں ہوتے
اللہ رے یہ وحشتِ عشّاق کا عالم
محفوظ کبھی جیب و گریباں نہیں ہوتے
کیا ان کی بھی آنکھوں میں ہے میرا ہی گلِ تر
ایسے تو میرے دوست گلستاں نہیں ہوتے
تالیف حیدر
No comments:
Post a Comment