کون اس ہجر زدہ عمر کو تنہا کاٹے
دُکھ خیالوں کو ڈسے، درد کلیجا کاٹے
ایسا لگتا ہے بُرادہ سا اُڑا جاتا ہے
جسم کے پیڑ کو جب کرب کا آرا کاٹے
دل ہی دو لخت نہ ہو گا تو بھلا کیا ہو گا
وہ تو بے سود مِرے جسم کا سایا کاٹے
پائے احساس میں زنجیر ہے بے چینی کی
اور آشفتہ سری دانت سے لوہا کاٹے
آس زخموں کو سیۓ روز رفوگر کی طرح
یاس مقراض بنے، آس کا ٹانکا کاٹے
راز یوں کاٹ رہا ہوں میں غموں کی رُت کو
جیسے صحرا کی صعوبت کوئی پیاسا کاٹے
قاسم راز
واہ واہ واہ
ReplyDelete