Friday, 11 June 2021

یہ کیا کہ دامن دل کو سنبھالتے رہنا

 یہ کیا کہ دامن دل کو سنبھالتے رہنا

کہیں پکارے محبت تو ٹالتے رہنا

کسی کو خوابوں کی جاگیر سونپ کر پہلے

بڑے جتن سے اسی کو نکالتے رہنا

جو خیر چاہتے ہیں ان کو چاہنا نہ کبھی

تم آستینوں میں بس سانپ پالتے رہنا

شمار کرنا نہ اپنا کبھی فرشتوں میں

کبھی نہ عیب کسی کے اچھالتے رہنا

ہو سنگلاخ بہت راستہ اندھیرا ہو

تم اپنے حصے کی شمع اجالتے رہنا

کبھی تو چیخ ہی پڑنا بدن کی چوٹوں پر

کہیں پہ زخم جگر خوں سے پالتے رہنا

یہی شعار ہے اپنا بھلا کے اپنے غم

حیات اوروں کی خوشیوں میں ڈھالتے رہنا


شاہانہ ناز

2 comments:

  1. بہت شکریہ پزیرائی کے لیے

    ReplyDelete
    Replies
    1. بلاگ پر تشریف آوری کے لیے مشکور ہوں۔

      Delete