یہ کیا کہ دامن دل کو سنبھالتے رہنا
کہیں پکارے محبت تو ٹالتے رہنا
کسی کو خوابوں کی جاگیر سونپ کر پہلے
بڑے جتن سے اسی کو نکالتے رہنا
جو خیر چاہتے ہیں ان کو چاہنا نہ کبھی
تم آستینوں میں بس سانپ پالتے رہنا
شمار کرنا نہ اپنا کبھی فرشتوں میں
کبھی نہ عیب کسی کے اچھالتے رہنا
ہو سنگلاخ بہت راستہ اندھیرا ہو
تم اپنے حصے کی شمع اجالتے رہنا
کبھی تو چیخ ہی پڑنا بدن کی چوٹوں پر
کہیں پہ زخم جگر خوں سے پالتے رہنا
یہی شعار ہے اپنا بھلا کے اپنے غم
حیات اوروں کی خوشیوں میں ڈھالتے رہنا
شاہانہ ناز
بہت شکریہ پزیرائی کے لیے
ReplyDeleteبلاگ پر تشریف آوری کے لیے مشکور ہوں۔
Delete