Tuesday, 15 June 2021

دھڑکتے سانس لیتے رکتے چلتے میں نے دیکھا ہے

 دھڑکتے سانس لیتے رکتے چلتے میں نے دیکھا ہے

کوئی تو ہے جسے اپنے میں پلتے میں نے دیکھا ہے

تمہارے خون سے میری رگوں میں خواب روشن ہے

تمہاری عادتوں میں خود کو ڈھلتے میں نے دیکھا ہے

نہ جانے کون ہے جو خواب میں آواز دیتا ہے

خود اپنے آپ کو نیندوں میں چلتے میں نے دیکھا ہے

میری خاموشیوں میں تیرتی ہیں تیری آوازیں

تِرے سینے میں اپنا دل مچلتے میں نے دیکھا ہے

بدل جائے گا سب کچھ بادلوں سے دھوپ چٹخے گی

بجھی آنکھوں میں کوئی خواب جلتے میں نے دیکھا ہے

مجھے معلوم ہے ان کی دعائیں ساتھ چلتی ہیں

سفر کی مشکلوں کو ہاتھ ملتے میں نے دیکھا ہے


آلوک شریواستو

No comments:

Post a Comment