Friday, 6 August 2021

رگوں میں زہر ترے ہجر کا اتارا ہے

 رگوں میں زہر تِرے ہجر کا اتارا ہے

مگر یہ ہجر تِرے وصل کا اشارا ہے

بلائیں لینے لگا ہے اب آئینہ میری

تمہارے لمس نے ایسا مجھے سنوارا ہے

وہ بازگشت تھی گزرے ہوئے زمانے کی

مجھے تھا وہم کہ اس نے مجھے پکارا ہے

ابھی تو اور کئی امتحان آئیں گے

یہ ہجر عشق کا اولیں شمارا ہے

ہوا چلے تو یہ دیوار گر بھی سکتی ہے

ابھی جسے تِری تصویر کا سہارا ہے

کھٹک رہا ہے مسلسل جہان والوں کو

وہ ایک شخص ہمیں جان سے جو پیارا ہے

ڈبو چکا ہے سفینے کئی محبت کے

کنارا بھول گیا ہے کہ وہ کنارا ہے

فہیم بوجھ تھا شاید میں زیست پر کوئی

مجھے خراج میں دے کر جو اس نے مارا ہے


محمد فہیم

No comments:

Post a Comment