راس آنے لگی ہے خاموشی
دل کو بھانے لگی ہے خاموشی
سلسلہ گفتگو کا ٹوٹ گیا
آنے جانے لگی ہے خاموشی
شور گویائی ہر طرف سن کر
خوف کھانے لگی ہے خاموشی
اہلِ دل چپ ہیں ماجرا کیا ہے
دل جلانے لگی ہے خاموشی
لا مکاں اور مکان کا رشتہ
کیوں چھپانے لگی ہے خاموشی
انیس انور
No comments:
Post a Comment