Wednesday, 11 August 2021

نسیم ہوتی ہوئی آئی ہے مدینے سے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


 نسیم ہوتی ہوئی آئی ہے مدینے سے

چمک رہے ہیں گل روح پر نگینے سے

ابھر رہی ہے سقوطِ حرا سے اک آواز

اتر رہی ہے سحر قصرِ شب کے زینے سے

تیری نگاہ تو ہو مری روح پر اک دن

نظر تو آتے ہیں جنگل میں کچھ دفینے سے

کسی سبب سے ہی خورشید لوٹ کر آیا

تو حکمِ خاص تھا اور خاص بھی قرینے سے

مِرے ستارے کو طیبہ سے کچھ اشارہ ہوا

سو بادباں سے غرض ہے نہ اب سیفنے سے

سنا ہے جب سے شفاعت کو آپؐ آئیں گے

کہ جیسے بوجھ سا اک ہٹ گیا ہے سینے سے

مدینہ ہے تو نجف بھی ہے، کربلا بھی ہے

تمام لعل و گہر ہیں اسی خزینے سے


پروین شاکر

No comments:

Post a Comment