Friday, 13 August 2021

اجاڑ راستے پھیلے ہوئے ہیں میلوں پر

 اجاڑ راستے پھیلے ہوئے ہیں میلوں پر

بہت ہی درد کی کائی جمی ہے جھیلوں پر

ہمی نے آنکھ اٹھا کر اسے نہیں دیکھا

وگرنہ چاند تو ٹھہرا رہا فصیلوں پر

وداع اس کو کیا تھا اگرچہ ہنس ہنس کر

مگر وہ رات کہ کاٹی ہے جیسے کیلوں پر

ہر ایک سوچ نئی دشمن وطن ٹھہری

میں تبصرہ بھی کروں کیا تِری دلیلوں پر

ٹھہر گئے ہیں فصیلوں پہ درد کے موسم

پرندے بھول گئے لوٹنا فصیلوں پر

ہمی حنیف تھے الجھے ہوئے بکھیڑوں میں

کنول کے پھول تو کھلتے رہے ہیں جھیلوں پر


حنیف دیپ

No comments:

Post a Comment