اجاڑ راستے پھیلے ہوئے ہیں میلوں پر
بہت ہی درد کی کائی جمی ہے جھیلوں پر
ہمی نے آنکھ اٹھا کر اسے نہیں دیکھا
وگرنہ چاند تو ٹھہرا رہا فصیلوں پر
وداع اس کو کیا تھا اگرچہ ہنس ہنس کر
مگر وہ رات کہ کاٹی ہے جیسے کیلوں پر
ہر ایک سوچ نئی دشمن وطن ٹھہری
میں تبصرہ بھی کروں کیا تِری دلیلوں پر
ٹھہر گئے ہیں فصیلوں پہ درد کے موسم
پرندے بھول گئے لوٹنا فصیلوں پر
ہمی حنیف تھے الجھے ہوئے بکھیڑوں میں
کنول کے پھول تو کھلتے رہے ہیں جھیلوں پر
حنیف دیپ
No comments:
Post a Comment