Friday, 6 August 2021

یوں مجھے بے نشان کر دیجے

یوں مجھے بے نشان کر دیجے

قبر میرا مکان کر دیجے

لذتِ درد کم نہ ہو جائے

زخم پھر سے جوان کر دیجے

دُھوپ خوشیوں کی بڑھ گئی ہے بہت

غم کا پھر سائبان کر دیجے

چشمِ نم کھول دے نہ راز مِرا

مجھ کو پھر بے زبان کر دیجے

تُخمِ خواہش نہ جس میں اُگ پائے

بانجھ وہ گُلستان کر دیجے


روبینہ ممتاز روبی

No comments:

Post a Comment