اب نہ کوئی بات بنا جانے دے
ہجر کے پھر شعر سنا جانے دے
اپنی سنا بات بتا دل کی پھر
چھوڑ بھی کیا کس نے کہا جانے دے
ٹوٹ گئی ڈور اگر یادوں کی
ایک نیا خواب سجا جانے دے
رات کے جو سائے ہیں چھٹ جائیں گے
دل میں کوئی دیپ جلا جانے دے
روگ لگا ہجر کا کیوں بیٹھا ہے
عشق کو اب راہ دکھا جانے دے
ساز بنا لے تُو بھی تنہائی کو
چھیڑ کوئی راگ نیا جانے دے
پیار کہ بے رنگ کاغذ پہ پھر
تُو بھی کوئی چاند اُگا جانے دے
کھول نہ اسرار مِری باتوں کو
دل پہ نہ یوں نقش بنا جانے دے
علیم اسرار
No comments:
Post a Comment