Friday, 10 September 2021

اب نہ کوئی بات بنا جانے دے

 اب نہ کوئی بات بنا جانے دے

ہجر کے پھر شعر سنا جانے دے

اپنی سنا بات بتا دل کی پھر

چھوڑ بھی کیا کس نے کہا جانے دے

ٹوٹ گئی ڈور اگر یادوں کی

ایک نیا خواب سجا جانے دے

رات کے جو سائے ہیں چھٹ جائیں گے

دل میں کوئی دیپ جلا جانے دے

روگ لگا ہجر کا کیوں بیٹھا ہے

عشق کو اب راہ دکھا جانے دے

ساز بنا لے تُو بھی تنہائی کو

چھیڑ کوئی راگ نیا جانے دے

پیار کہ بے رنگ کاغذ پہ پھر

تُو بھی کوئی چاند اُگا جانے دے

کھول نہ اسرار مِری باتوں کو

دل پہ نہ یوں نقش بنا جانے دے


علیم اسرار

No comments:

Post a Comment