Friday, 10 September 2021

پہاڑ ہونے کا سارا غرور کانپ اٹھا

 پہاڑ ہونے کا سارا غرور کانپ اٹھا

بس اک ذرا سی تجلی سے طور کانپ اٹھا

ہوا نے جیسے ہی تیور دکھائے ہیں اپنے

نکل رہا تھا دِیے سے جو نور کانپ اٹھا

پڑھی جو جبر و تشدد کی داستان کہیں

کبھی شعور، کبھی لا شعور کانپ اٹھا

زباں پہ آ نہ سکی اپنے دل کی ایک بھی بات

کہ جب بھی پہنچا میں اس کے حضور کانپ اٹھا

بنا دیا ہے اپاہج سا جس کی قربت نے

کبھی ہوا میں اگر اس سے دور کانپ اٹھا

سزا کچھ ایسی ملی ایک بے قصور کو آج

ہوا تھا اصل میں جس سے قصور کانپ اٹھا


شاہد جمال

No comments:

Post a Comment