پہاڑ ہونے کا سارا غرور کانپ اٹھا
بس اک ذرا سی تجلی سے طور کانپ اٹھا
ہوا نے جیسے ہی تیور دکھائے ہیں اپنے
نکل رہا تھا دِیے سے جو نور کانپ اٹھا
پڑھی جو جبر و تشدد کی داستان کہیں
کبھی شعور، کبھی لا شعور کانپ اٹھا
زباں پہ آ نہ سکی اپنے دل کی ایک بھی بات
کہ جب بھی پہنچا میں اس کے حضور کانپ اٹھا
بنا دیا ہے اپاہج سا جس کی قربت نے
کبھی ہوا میں اگر اس سے دور کانپ اٹھا
سزا کچھ ایسی ملی ایک بے قصور کو آج
ہوا تھا اصل میں جس سے قصور کانپ اٹھا
شاہد جمال
No comments:
Post a Comment