Friday, 10 September 2021

ساحل سے اٹھا ہے نہ سمندر سے اٹھا ہے

 ساحل سے اٹھا ہے نہ سمندر سے اٹھا ہے

جو شور مِری ذات کے اندر سے اٹھا ہے

دریائے محبت کے کنارے کبھی کوئی

ڈوبا ہے جو اک بار، مقدر سے اٹھا ہے

وہ آئے تو اس خواب کو تعبیر ملے گی

جو خواب جزیرہ مِرے ساگر سے اٹھا ہے

میں اپنے رگ و پے میں اسے ڈھونڈ رہی ہوں

جو شخص ابھی میرے برابر سے اٹھا ہے

رقصاں ہے مِری آنکھ میں احساس کی مانند

منظر جو تِری آنکھ کے منظر سے اٹھا ہے

پھولوں کو تِرے رنگ نے بخشی ہے کہانی

خوشبو کا فسانہ تِرے پیکر سے اٹھا ہے

اس شہر محبت میں وہ رکتا ہی نہیں ہے

جو شور تِرے پیار کے محور سے اٹھا ہے

یہ اس کا رویہ، یہ انا، یہ لب و لہجہ

ان سب کے سبب امن و سکوں گھر سے اٹھا ہے

مہر و مہ و انجم میں اسے ڈھونڈنے والو

یہ سارا جہاں خاک کے پیکر سے اٹھا ہے

رہتا ہے مِری آنکھ میں کاجل کی طرح سے

جو دور تمناؤں کے تیور سے اٹھا ہے

میں در سے تِرے اٹھ کے اسی سوچ میں گم ہوں

کیا کوئی خوشی سے بھی تِرے در سے اٹھا ہے

جو اس کی نظر سے کبھی افروز اٹھا تھا

اس بار وہ محشر مِرے اندر سے اٹھا ہے


افروز رضوی

No comments:

Post a Comment