فلک کو آج چُھو کر دیکھتے ہیں
ہے کتنا سر کے اوپر دیکھتے ہیں
اُجالا کیسے نگلے گا اندھیرا؟
کسی کونے سے چُھپ کر دیکھتے ہیں
بہت مُشکل ہے چہرے کو سمجھنا
اُتر کر دل کے اندر دیکھتے ہیں
نہیں جب ساتھ رہنا ہے گوارا
چلو کچھ دن بچھڑ کر دیکھتے ہیں
کوئی آ کر نہ پھر نیندیں چُرا لے
نیا اک خواب اصغر دیکھتے ہیں
اصغر شمیم
No comments:
Post a Comment