Saturday, 18 September 2021

فلک کو آج چھو کر دیکھتے ہیں

 فلک کو آج چُھو کر دیکھتے ہیں

ہے کتنا سر کے اوپر دیکھتے ہیں

اُجالا کیسے نگلے گا اندھیرا؟

کسی کونے سے چُھپ کر دیکھتے ہیں

بہت مُشکل ہے چہرے کو سمجھنا

اُتر کر دل کے اندر دیکھتے ہیں

نہیں جب ساتھ رہنا ہے گوارا

چلو کچھ دن بچھڑ کر دیکھتے ہیں

کوئی آ کر نہ پھر نیندیں چُرا لے

نیا اک خواب اصغر دیکھتے ہیں


اصغر شمیم

No comments:

Post a Comment