Friday, 17 September 2021

خطا قبول نہیں ہے تو خود خطا کر دیکھ

 خطا قبول نہیں ہے تو خود خطا کر دیکھ 

یا ایک بار برابر میں میرے آ کر دیکھ 

یہ میرا صبر ہے، یہ مجھ پِسے ہوئے کا صبر 

خدائے قہر!! تُو آ، قہر آزما کر دیکھ 

غرور وار دیا میں نے فی سبیل العشق 

اے عشق! تُو بھی تو اب تھوٖڑا حوصلہ کر دیکھ 

میں دل کا اچھا ہوں لیکن ذرا سا ہوں گُستاخ 

تُو ایک بار مجھے سینے سے لگا کر دیکھ 

تُو آزما تو چکا ہے یہ سارے مکر و فریب 

بس اب اذانِ محبت زباں پہ لا کر دیکھ 

وہ کچھ بتانے سے شاید جھجکتی ہو گی وقار 

بس ایک بار اُسے نام سے بلا کر دیکھ 


وقار خان

No comments:

Post a Comment