Wednesday, 13 October 2021

یہ جو رت جگوں کا نصاب ہیں مرے خواب ہیں

 یہ جو رتجگوں کا نصاب ہیں، مِرے خواب ہیں

کسی اجنبی کے عذاب ہیں، مرے خواب ہیں

یہ جو اُجلی اُجلی سے دھوپ ہے، تِرا روپ ہے

یہ جو جُھلسے جُھلسے سراب ہیں، مرے خواب ہیں

یہ جو مہکی مہکی بہار ہے،۔ تِرا پیار ہے

یہ جو میلے میلے گلاب ہیں، مرے خواب ہیں

یہ جو اشک اشک دھمال ہے، یہ وصال ہے

یہ جو رتجگے تہِ آب ہیں، مرے خواب ہیں

کسی مہرباں کی ضرورتوں نے کُچل دئیے

یہ کہا بھی تھا؛ مرے خواب ہیں مرے خواب ہیں

یہ سارے جگ میں حسین ہے، میری شین ہے

یہ جو سارے جگ میں خراب ہیں مرے خواب ہیں


شکیل پتافی

No comments:

Post a Comment