Wednesday, 22 December 2021

موزوں کلام میں جو ثنائے نبی ہوئی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


موزوں کلام میں جو ثنائے نبیؐ ہوئی

تو ابتداء سے طبع رواں منتہی ہوئی

ہر بیت میں جو وصفِ پیمبرؐ رقم کیے

کاشانۂ سخن میں بڑی روشنی ہوئی

ظلمت رہی نہ پرتوِ حُسنِ رسولؐ سے

بے کار اے فلک شبِ مہتاب بھی ہوئی

ساقی سلسبیل کے اوصاف جب پڑھے

محفل تمام مست مئے بے خودی ہوئی

دل کھول کر رسولؐ سے میں نے کیے سوال

ہرگز طلب میں عار نہ پیشِ سخی ہوئی

تاریک شب میں آپؐ نے رکھا جہاں قدم

مہتابِ نقشِ پاؐ سے وہاں روشنی ہوئی

ہے شاہِ دیںؐ سے کوثر و تسنیم کا کلام

یہ آبرو تمام ہے حضرؐت کی دی ہوئی

سالک ہے جو کہ جادۂ عشقِ رسولﷺ کا

جنت کی راہ اس کے لیے ہے کھلی ہوئی

آزاؔد اور فکر جگہ پائے گی کہاں

الفت ہے دل میں شاہِ زمنؐ کی بھری ہوئی


ابوالکلام آزاد

No comments:

Post a Comment