Monday, 20 December 2021

مجھ کو اپنی آنکھوں پر حیرانی ہے

 مجھ کو اپنی آنکھوں پر حیرانی ہے

مشکل سے تیری صورت پہچانی ہے

اک جانب دریا کے بہنے کی آواز

دوسری جانب میلوں تک ویرانی ہے

ہر شام کبوتر پُرسہ دینے آتے ہیں

اس نگری کی آب و ہوا روحانی ہے

دل کی آگ پہ اشک بہانا بنتا ہے

اندازہ ہو آنکھ میں کتنا پانی ہے

خود کو روشن کرنے میں مشغول ہوئے

وقت نے جن پر کالی چادر تانی ہے


مصطفیٰ جاذب

No comments:

Post a Comment