مجھ کو اپنی آنکھوں پر حیرانی ہے
مشکل سے تیری صورت پہچانی ہے
اک جانب دریا کے بہنے کی آواز
دوسری جانب میلوں تک ویرانی ہے
ہر شام کبوتر پُرسہ دینے آتے ہیں
اس نگری کی آب و ہوا روحانی ہے
دل کی آگ پہ اشک بہانا بنتا ہے
اندازہ ہو آنکھ میں کتنا پانی ہے
خود کو روشن کرنے میں مشغول ہوئے
وقت نے جن پر کالی چادر تانی ہے
مصطفیٰ جاذب
No comments:
Post a Comment