Wednesday, 8 December 2021

جب کبھی حسن کی پاکیزہ کہانی لکھنا

 جب کبھی حسن کی پاکیزہ کہانی لکھنا

شیام کے عشق میں مِیرا کو دِوانی لکھنا

تم کسی پھول کو مُرجھاتے ہوئے دیکھنا جب

اس گھڑی بیٹھ کے انجامِ جوانی لکھنا

زندگی جس کے تصور سے سنور جاتی ہے

میرے حصے میں وہی شام سُہانی لکھنا

اپنے مقصد کے لیے اہلِ سیاست نے یہاں

کس طرح کھوئی بزرگوں کی نشانی لکھنا

اس بہانے سے اُتر جائے گا یہ دل کا بوجھ

اپنا ہر قصۂ غم، اپنی زبانی لکھنا

ذکر جب بھی چِھڑے تہذیب کا دنیا میں انا

اس قلم سے کوئی تاریخ پرانی لکھنا


انا دہلوی

No comments:

Post a Comment