Wednesday, 8 December 2021

بہت کچھ وصل کے امکان ہوتے

 بہت کچھ وصل کے امکان ہوتے

شرارت کرتے ہم شیطان ہوتے

سمٹ آئی ہے اک کمرے میں دنیا

تو بچے کس طرح نادان ہوتے

کسی دن عقدۂ مشکل بھی کھلتا

کبھی ہم پر بھی تم آسان ہوتے

خطا سے منہ چھپائے پھر رہے ہیں

فرشتے بن گئے انسان ہوتے

ہر اک دم جاں نکالی جا رہی ہے

ہم اک دم سے کہاں بے جان ہوتے


ظہیر رحمتی

No comments:

Post a Comment