Sunday, 19 December 2021

صلح کرنا تو اک بہانہ تھا

 صلح کرنا تو اک بہانہ تھا

گو کہ انداز قاتلانہ تھا

جاں سے گزرے تو بھید یہ پایا

وہ حقیقت نہیں فسانہ تھا

وقت گزرا ہے ایک ایسا بھی

سایۂ ذات جب بے گانہ تھا

اس کی منظر کشی پہ حیراں ہوں

کیا تعارف وہ غائبانہ تھا

دل سُلگتا تھا سوزِ ہجراں سے

نارسا اس کا شاخسانہ تھا

رنجشیں اور بڑھ گئی ہوں گی

دشمنِ جاں مِرا زمانہ تھا

پڑھ کے رویا بیانِ عارف کو

ایک اک حرف عارفانہ تھا


عارف اویسی

No comments:

Post a Comment