صلح کرنا تو اک بہانہ تھا
گو کہ انداز قاتلانہ تھا
جاں سے گزرے تو بھید یہ پایا
وہ حقیقت نہیں فسانہ تھا
وقت گزرا ہے ایک ایسا بھی
سایۂ ذات جب بے گانہ تھا
اس کی منظر کشی پہ حیراں ہوں
کیا تعارف وہ غائبانہ تھا
دل سُلگتا تھا سوزِ ہجراں سے
نارسا اس کا شاخسانہ تھا
رنجشیں اور بڑھ گئی ہوں گی
دشمنِ جاں مِرا زمانہ تھا
پڑھ کے رویا بیانِ عارف کو
ایک اک حرف عارفانہ تھا
عارف اویسی
No comments:
Post a Comment