Sunday, 19 December 2021

کچھ تو وفا کا رنگ ہو دستِ جفا کے ساتھ

 کچھ تو وفا کا رنگ ہو دستِ جفا کے ساتھ

سرخی مِرے لہو کی ملا لو حِنا کے ساتھ

ہم وحشیوں سے ہوش کی باتیں فضول ہیں

پیوند کیا لگائیں دریدہ قبا کے ساتھ

صدیوں سے پھر رہا ہوں سکوں کی تلاش میں

صدیوں کی بازگشت ہے اپنی صدا کے ساتھ

پرواز کی اُمنگ، نہ کُنج قفس کا رنج

فطرت مِری بدل گئی آب و ہوا کے ساتھ

کیا پتھروں کے شہر میں دوکانِ شیشہ گر

اک شمع جل رہی ہے غضب کی ہوا کے ساتھ


ساغر مہدی

No comments:

Post a Comment