میں بھی یکتا میرا محبوب بھی یکتا نکلا
دشت پھر دشت تھا دریا بھی تو پیاسا نکلا
بس کے اجڑا تو دوبارہ نہیں بسنے پایا
دل کا عالم، تو کسی شہرِ سبا سا نکلا
وقت کے ساتھ سبھی زخم نہیں بھر جاتے
پھول کا گھاؤ تو پتھر سے بھی گہرا نکلا
ہم نے جس طور سے گردن تہِ خنجر رکھ دی
اہلِ ہمت میں وہی حسنِ تقاضا نکلا
سو گیا آخرِ شب تھک کے تمنا کا خمار
چاند بھی پچھلے پہر نیند میں ڈوبا نکلا
خالد علیگ
No comments:
Post a Comment