شعور بوئے ہوئے فصلِ دل اگاتے ہوئے
تھکن خریدی ہے شرطِ سفر نبھاتے ہوئے
کئی دنوں سے کسی بام و در پہ کوئی نہ تھا
چراغ کس نے رکھے حوصلے بڑھاتے ہوئے
یہ کس ملال کی زد میں ہے آب آئینہ
کہ عکس ٹوٹ رہے ہیں نظر ملاتے ہوئے
بہت سے غیر ضروری بھی لوگ گوُنج اٹھے
اس ایک یاد کی زنجیر کو ہلاتے ہوئے
ہم اپنے زعمِ محبت میں دیکھ ہی نہ سکے
تعلقات کے شیشے میں بال آتے ہوئے
ہر ایک لفظ کے معنی بدل دئیے ہم نے
مشاہدات کی تازہ لغت بناتے ہوئے
پرند آنے لگے ہیں جنوب کو چھو کر
نئی رُتوں کی حمیرا خبر سناتے ہوئے
حمیرا رحمان
No comments:
Post a Comment