ہمیں جو دور سے جلتے ہوئے چراغ لگے
انہیں قریب سے دیکھا، تو داغ داغ لگے
ہوس کی بھول بھلیوں میں گم ہوئی ہستی
بھٹک رہا ہوں کہ اپنا کوئی سراغ لگے
کمی نہ تھی مِری میت میں سوگواروں کی
مِرے عزیز و اقارب ہی باغ باغ لگے
میں سوچتا ہوں اسے نوجوان کیسے کہوں
مجھے وہ شخص تو بجھتا ہوا چراغ لگے
خزاں پرست بہاریں چمن کو کیا دیں گی
لہو سے سینچیۓ اس کو کہ باغ، باغ لگے
تغیراتِ زمانہ اسی کو کہتے ہیں
کہ اہلِ علم گھرانے ہی بے چراغ لگے
حصولِ دولتِ دنیا خلش کمال نہیں
کمال یہ ہے کہ کردار پر نہ داغ لگے
اقبال خلش
No comments:
Post a Comment