اندوہ پرست
کاش میں خزاں کی طرح ہوتی
کاش میں خزاں کی طرح
خاموش و ملال انگیز ہوتی
میری آرزوؤں کے پتے
ایک ایک کر کے زرد ہو رہے ہوتے
میری آنکھوں کا آفتاب سرد ہو رہا ہوتا
میرے سینے کا آسمان پُردرد ہو رہا ہوتا
اچانک کسی غم کا طوفان
میری جان کو اپنے چنگل میں لے لیتا
میرے اشک، بارش کی طرح
میرے دامن کو رنگین کر دیتے
آہ کیا ہی خوب ہوتا اگر میں خزاں ہوتی
وحشی و پُرشور و رنگ آمیز ہوتی
کوئی شاعر میری آنکھوں میں پڑھتا
ایک آسمانی نظم
میرے پہلو میں کسی عاشق کا قلب شعلہ زن ہوتا
کسی نہاں غم کے آتشی شراروں میں
میرا نغمہ
نسیمِ پر شکستہ کی آواز کی طرح
خستہ حال دلوں پر عطرِ غم چھڑکتا
میرے روبرو
جوانی کے زمستاں کا تلخ چہرہ
میرے پسِ پُشت
کسی ناگہانی عشق کے تابستاں کا آشوب
میرا سینہ
اندوہ و درد و بدگمانی کی منزل گاہ
کاش میں خزاں کی طرح ہوتی
کاش میں خزاں کی طرح ہوتی
فروغ فرخ زاد
فارسی شاعری سے اردو ترجمہ
No comments:
Post a Comment