Monday, 20 December 2021

یہ کہیں تیری دعاؤں کا ہی فیضان نہ ہو

 یہ کہیں تیری دعاؤں کا ہی فیضان نہ ہو

میں تجھے بھول گیا ہوں تو یوں حیران نہ ہو

یا خدا! اس کو بھلانا ہمیں آسان لگے

اور حقیقت میں بھلانا ہمیں آسان نہ ہو

دن پھریں دوست تِرے، میں نے دعا مانگی ہے

مجھ پریشاں کی وہ سن لے گا، پریشان نہ ہو

دوست اس خوف سے میں گٹھڑی نہیں دیتا تجھے

تاکہ اس بوجھ میں شامل تِرا احسان نہ ہو

میں بڑے پن پہ اتر آیا ہوں لڑتے لڑتے

فائدہ مجھ کو، اے دشمن! تجھے نقصان نہ ہو

یا خدا! اس سے ملانا مجھے اک بار ضرور

اور اس وقت کہ جب ملنے کا امکان نہ ہو


صداقت طاہر

No comments:

Post a Comment