یہ کہیں تیری دعاؤں کا ہی فیضان نہ ہو
میں تجھے بھول گیا ہوں تو یوں حیران نہ ہو
یا خدا! اس کو بھلانا ہمیں آسان لگے
اور حقیقت میں بھلانا ہمیں آسان نہ ہو
دن پھریں دوست تِرے، میں نے دعا مانگی ہے
مجھ پریشاں کی وہ سن لے گا، پریشان نہ ہو
دوست اس خوف سے میں گٹھڑی نہیں دیتا تجھے
تاکہ اس بوجھ میں شامل تِرا احسان نہ ہو
میں بڑے پن پہ اتر آیا ہوں لڑتے لڑتے
فائدہ مجھ کو، اے دشمن! تجھے نقصان نہ ہو
یا خدا! اس سے ملانا مجھے اک بار ضرور
اور اس وقت کہ جب ملنے کا امکان نہ ہو
صداقت طاہر
No comments:
Post a Comment