تم جانِ آرزو ہو، نشاطِ خیال ہو
کیا دوں بھلا مثال کہ تم بے مثال ہو
دیکھا ہے جب سے تم کو عجب حال ہے مِرا
لگتا ہے جیسے تم ہی مِرے ہم خیال ہو
ملنے کی آرزو میں کبھی اس طرح ملیں
دنیا کرے جدا تو بچھڑنا محال ہو
لائیں کہاں سے جرأتِ اظہارِ مُدعا
ایسے میں جبکہ اپنی ہی حالت نڈھال ہو
میں پھر رہی ہوں سائے کے پیچھے یہ سوچ کر
شاید کہ اس طرح سے طبیعت بحال ہو
خود کو غزل اکیلی سمجھتی ہو کس لیے
یہ کون جانے تم بھی کسی کا خیال ہو
غزل جعفری
No comments:
Post a Comment