Saturday, 11 December 2021

اک چہرہ ہے جو وجدان میں رکھا ہوا ہے

 اک چہرہ ہے جو وجدان میں رکھا ہوا ہے

پھول جیسے کوئی گلدان میں رکھا ہوا ہے

شاید اک خواب کی انگلی بھی ہوں تھامے ہوئے میں

اور کوئی دھیان بھی سامان میں رکھا ہوا ہے

چونک اٹھتا ہوں میں اس واسطے اس سے مل کر

ہجر کا دکھ کوئی امکان میں رکھا ہوا ہے

شاید اس واسطے رہتی ہے مجھے اپنی تلاش

ذائقہ زیست کا پہچان میں رکھا ہوا ہے

قید کر رکھا ہے اس نے مجھے مجھ میں کاشف

روح کو جسم کے زندان میں رکھا ہوا ہے


کاشف رحمان

No comments:

Post a Comment