Tuesday, 7 December 2021

کچھ سہمی شرمائی خوشبو رات گئے گھر آئی خوشبو

 کچھ سہمی شرمائی خوشبو

رات گئے گھر آئی خوشبو

آنکھ کے روشن دان سے اتری

دل میں ایک پرائی خوشبو

آزادی کا ہاتھ پکڑ کر

بازاروں میں آئی خوشبو

تیز بہت بازار تھا اب کے

میرے ہاتھ نہ آئی خوشبو

تھک کر باسی ہو جانے سے

پہلے گھر لوٹ آئی خوشبو

رات کے سناٹوں میں بولے

خاموشی تنہائی خوشبو


خواجہ ساجد

No comments:

Post a Comment