Tuesday, 7 December 2021

پہلے جو تھی دلوں میں محبت نہیں رہی

 پہلے جو تھی دلوں میں محبت نہیں رہی

افسوس اب جہاں میں شرافت نہیں رہی

اک مہرباں کی چشمِ کرم مجھ پہ ہو گئی

دنیا تِرے کرم کی ضرورت نہیں رہی

تم نے نگاہ پھیری تو احساس یہ ہوا

دنیا میں کچھ خلوص کی قیمت نہیں رہی

یہ اور بات میں نے ہی تجھ کو بُھلا دیا

ہمراہ میرے کب تِری رحمت نہیں رہی

کیوں آپ کائنات سے بے زار ہو گئے

کیا دل میں روشنیٔ محبت نہیں رہی

منزل سے آشنا وہ کبھی ہو نہیں سکا

حاصل جسے کسی کی قیادت نہیں رہی

میں نے کسی کا دل نہیں توڑا کبھی انا

واللہ، مجھ میں یہ کبھی عادت نہیں رہی


انا دہلوی

No comments:

Post a Comment